ابنا: یمن نے اعلان کر رکھا ہےکہ اسے اپنی اقتصادی مشکلات پر قابو پانے کے لۓ دس ارب ڈالر کی امداد کی ضرورت ہے۔ بہت سے سیاسی مبصرین اجلاس کا مقصد اقتصادی موضوعات سے بالاتر قرار دے رہے ہیں۔ خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ بعض عرب ممالک اور امریکہ یمن کی صورتحال پر اثر انداز ہونے اور اس ملک کی سیاست میں من پسند تبدیلیاں لانے کے لۓ پرعزم ہیں۔ یمن میں بدامنی ، صنعا میں چند دن قبل ایک سو افراد کی ہلاکتوں پر منتج ہونے والا بم دھماکہ اور صنعا کے جنوبی علاقوں میں دہشتگرد گروہ القاعدہ کی سرگرمیوں کے از سر نو آغاز میں کوئی ایک واقعہ بھی اتفاقی نہیں ہے۔
ایسا نظر آتا ہے کہ بعض طاقتیں یمن کو بدامنی کا شکار کر کے اس ملک میں اپنی مداخلت کا راستہ ہموار کرنا چاہتی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یمن میں اب تک استحکام پیدا نہیں ہوا ہے اور سیاسی بحران ابھی تک اس ملک میں جوں کا توں پایا جاتا ہے۔ ان حالات میں خلیج فارس کے بعض جنوبی ساحلی ممالک حتی امریکہ یمن کے حالات سے فائدہ اٹھانے کے درپے ہیں۔ سعودی عرب کا شمار خطے کے ان عرب ممالک میں ہوتا ہے جنھوں نے بعض عرب ممالک میں عوامی تحریکیں شروع ہونے کے بعد اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ سعودی عرب یمن کے واقعات کے سلسلے میں کردار ادا کرنے والا ایک علاقائي ملک شمار ہوتا ہے۔ یمن کے واقعات کے حوالے سے سعودی عرب نے جو اقدامات انجام دیۓ ان میں سے ایک خلیج فارس تعاون کونسل کی تجویز کو عملی جامہ پہنانا بھی ہے جس کی رو سے علی عبداللہ صالح اقتدار سے الگ ہوا اور اقتدار اس ڈکٹیٹر کے نائب عبد ربہ منصور کے سپرد کیا گیا اور آخر کار ملک میں دکھاوے کے انتخابات کے انعقاد کا راستہ ہموار ہوا۔
ریاض یمن کے عوامی انقلاب کو ہائی جیک کرنے کے ساتھ ساتھ اس ملک کو ایک ایسے راستے پر ڈالنے کی کوشش کررہا ہے جو یورپی اور خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ممالک کے مدنظر ہے۔ اس وقت سعودی عرب یمن اور اس ملک کے مستقبل کے بارے میں اپنے نظریات خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ممالک اور امریکہ کے ساتھ شیئر کرنےکا کوئي موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ہے۔
دریں اثناء امریکہ اور یورپی یونین کے نمائندوں کی شرکت کے ساتھ ریاض میں فرینڈز آف یمن کے نام سے اجلاس کا انعقاد سعودی عرب کے حکام کے لۓ ایک سنہری موقع ہے جس سے فائدہ اٹھا کر وہ یمن کے لۓ اقتصادی مدد اکٹھی کرنے کے بہانے اس ملک کے موجودہ حکام کے نزدیک اپنی پوزیشن مستحکم اور ان کو اپنے مطالبات سے آگاہ کرنا چاہتا ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر یمن کے دوستوں کے نام سے بلایا جانے والا اجلاس درحقیقت یمنی عوام کے دشمنوں کا اجلاس ہے۔ یہ ایسا اجلاس ہے جس کا اہتمام سعودی عرب اور امریکہ نے کیا ہے اور جس کا مقصد عبد ربہ منصور کی سربراہی والے سیاسی نظام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔....... /169